مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت انٹیلیجنس نے سنی عالم دین اور اتحاد کے داعی مولوی یوسف گرگیچ کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے اس اقدام کو ملک کے امن، اتحاد اور سماجی یکجہتی کے خلاف حملہ قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، وزارت انٹیلیجنس نے مولوی یوسف گرگیچ کی شہادت کے بعد جاری کیے گئے ایک پیغام میں سیستان و بلوچستان کے عوام اور ملک کے امن و اتحاد سے وابستہ تمام افراد سے تعزیت کی اور اس دہشت گردانہ کارروائی کی شدید مذمت کی۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ شہید کا خون ایرانی قوم کے اتحاد اور یکجہتی کی راہ روشن کرنے والا چراغ ہے۔ مولوی یوسف گرگیچ ایک عوامی عالم دین اور اتحاد کے داعی تھے، ان کی مظلومانہ شہادت سیستان و بلوچستان کے عوام اور ایران کے امن، اتحاد اور سربلندی کے خواہاں تمام لوگوں کے لیے ایک تلخ سانحہ ہے۔
وزارت انٹیلیجنس کے مطابق، مولوی گرگیچ نے اپنی پوری زندگی باہمی اتفاق، ہمدردی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے وقف کی اور اپنی علمی، فقہی، ثقافتی اور سماجی صلاحیتوں کو اسلامی اخوت، مذاہب کے درمیان قربت اور ایرانی اقوام کی عزت و کرامت کے تحفظ کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے منبر و محراب کو خدمت، آگاہی اور اتحاد کا مرکز بنایا۔
پیغام میں مزید کہا گیا کہ ایسی شخصیات کا قتل صرف افراد کے خلاف جرم نہیں بلکہ معاشرے کے امن، اتحاد اور سماجی سرمایہ پر حملہ ہے۔ وزارت انٹیلیجنس نے اس دہشت گردانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جرم میں ملوث عناصر، اس کے منصوبہ سازوں اور معاونین کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی تک اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
وزارت انٹیلیجنس نے کہا کہ ایران کے امن اور اتحاد کے دشمن جان لیں کہ دہشت گردی کبھی اتحاد کی سوچ کو خاموش نہیں کرسکتی بلکہ اسلامی اتفاق اور بھائی چارے کے راستے کو مزید مضبوط کرے گی۔
پیغام میں کہا گیا کہ ایران کے عوام، بالخصوص سیستان و بلوچستان کے باشعور اور شریف عوام، شہدا کے پاک خون کو شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تفرقے اور اختلاف کا ذریعہ نہیں بننے دیں گے اور مولوی یوسف گرگیچ سمیت ملک اور صوبے کے تمام مظلوم شہدائے امن کا راستہ مزید بھائی چارے، مضبوط اتحاد، اقوام کی عزت، قومی یکجہتی اور ایران کی سربلندی کا راستہ ہوگا۔
آپ کا تبصرہ